hafta-e-wilayat

🌙CHAND NEWS_ZILHIJJA_1442H
🕋 “` SHIA Markazi Chand Committe (Regd 3158)“`
“`Uttar Pradesh, Lucknow INDIA“`
*Date: 11th Day of July 2021*
*तमाम मोमेनीन को यह इत्तेला दी जाती है के आज (11 जुलाई 2021) को माहे “ज़िलहिज्जा” के चाँद की तसदीक़ हो गई है। लेहाज़ा कल (12 जुलाई 2021) को माहे “ज़िलहिज्जा सन् 1442 हिजरी” कि पहली तारीख होगी।*
*ईद उल अजहा 21 जुलाई 2021 को होगी*
_*Tamam Momeneen ko yeh ittelah di jati hai ke aaj (11th July 2021) ko Maahe Zilhijja san 1442 Hijri ke Chand ki Tasdeekh HO Gayi Hai, Lehaza kal (12th July 2021) ko Maahe Zilhijja San 1442 Hijri ki PAHLI Tareekh Hogi!*_
*٢٩ ذيقعده كو چاند کی تصدیق ھوگئ ھے لہذا کل ۱۲ /جولائ کو یکم ذی الحجه هوگی*
✍🏻 *_मौ• सै• सैफ अब्बास नक़वी_*
*_अध्यक्ष: शिया मरकज़ी चाँद कमेटी, लखनऊ, हिन्दुसतान_*
_रबता करें: +91-9839097407_
“`Official Twitter Handle“` 👇🏻
Tweets by SaifAbbasNaqvii
“`Official Facebook Page“` 👇🏻
https://www.facebook.com/maulanasaifabbas
مدرسہ ابوطالبؑ بنا جسم و روح کی صحت کا مر کز
:مولانامدرسہ ابوطالبؑ بنا جسم و روح کی صحت کا مر کز: سیف عباس
لکھنؤ07جولائی 2021 دلدار علی غفران مآب فاؤنڈیشن کے سکریٹری نشر ا شاعت نے جاری بیان میں کہاکہ ابوطالبؑ چیریٹیبل کلنیک کا افتتاح مدرسہ ابو طالبؑ حسن پوریہ میں انجام پایا ۔ افتتاحی تقریب کا آغاز حدیث کساکی تلاوت سے کیا گیا ۔ افتتاحی تقریر کر تے ہوئے مولانا سیف عبا س نے کہاکہ ابوطالبؑ چیریٹیبل کلنیک کاافتتاح مدرسہ ابوطالبؑ میں وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ جس طریقہ سے کورونا وبا کی دوسری لہر میں حالات نظر آئے جو انتہائی تشویش ناک تھے ۔ لہٰذا علا قے کے مو منین کی فرمائش پر ابوطالبؑ چیریٹیبل کلنیک کاافتتاح کیا جا رہا ہے تاکہ مو منین زیا دہ سے زیادہ فائد ہ حاصل کر سکیں ۔
مولانا سیف عباس نے کہاکہ مدرسہ تعلیمی ادارہ ہے جہاں سے لوگ تعلیم حا صل کر کے اپنی روح کو بہتر بناتے ہیں تواگر اسی جگہ جسم کا علاج کیا جائے تو اس سے بہتر اور کیا ہو گا۔ مولانا نے لوگوں سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہاکہ کورونا وائرس جو اس وقت پوری دنیا کو گرفت میں لیے ہوئے ہے ایسے میں ڈاکٹروں کے مشورے پر عمل کر نا ہمارے اوپر لازم ہے ۔جیسا کہ شوسل ڈسٹینسنگ ، ماسک پہننا وغیرہ ۔
مہمان خصوصی ڈاکٹرسید حسن اس دور میں انسان کی مدد کے لیےہر ایک کو آگے آنا چاہئے اور مذہب کی دیوار گرا کر لوگوں کی مدد کرنا چاہئے چونکہ کوئی مرض مذہب اور ذات کو دیکھ کر اپنے شکنجہ میں نہیں لیتا ہے ۔ڈاکٹر ضیا فاطمہ نے لوگوں سے اس کورونا وبا میں احتیاط بر تنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ آپ کے علاقہ میں جو کلینک کھولاہے اس کا فائدہ زیادہ سے زیادہ اٹھائے اور اگر کوئی تکلیف ہوتی ہے تو ڈاکٹرسے مشورہ کریں۔ڈاکٹر دائم رضا ، سابق چیف میڈیکل افسر ، ایرا میڈیکل کالج نے لوگوں سے کورونا کے اس دور میں بہت ہی ر محتاط رہنے کی اپیل کی ۔انجمن غنچہ مظلومیہ کے نائب صدر جناب حسن یعقوب صا حب نے ایک اہم تجویز دی کہ محرم سے قبل انجمنہائے ماتمی ویکسین کی ڈوز لگوا لیں۔ پروگرام میں علما و دانشور حضرات نے شرکت کی ۔
——–

अबू तालिब चैरिटेबल क्लिनिक का उद्घाटन 7 जुलाई, 2021 को
लखनऊ, 05 जुलाई, 2021ः दिलदार अली गफरान माआब फाउंडेशन की ओर से जारी एक बयान में जानकारी दी गई है कि कोरोना की तीसरी लहर को देखते हुए लोगों की जनसुविधा के लिए एक छूटी सी कोशिश की जा रही। जिस तरह से कोरोना की दूसरी लहर में लोग परेशान हुए हैं, वह बहुत ही परेशान करने वाली स्थिति थी।

इसलिए मौलाना सैयद सैफ अब्बास की अध्यक्षता में मदरसाए अबू तालिब अ0स0 हसन पुरिया, कश्मीरी मोहल्ला, लखनऊ में दिनांक 7 जुलाई 2021 को शाम 5 बजे दिन बुधवार अबू तालिब चैरिटेबल क्लिनिक का उद्घाटन होगा.


حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہاکے مختصر حالات زندگی
آپ کا نام فاطمہ اور مشہور لقب “معصومہ” ہے۔ آپ کے والد محترم ساتویں امام حضرت موسی بن جعفر (ع) اور والدہ محترمہ حضرت نجمہ خاتون ہیں۔
جناب معصومہ کی ولادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ بچپنے میں ہی امام موسیٰ ابن جعفر(ع) کی بغداد میں شہادت واقع ہو گئی اور آپ آٹھویں امام علی ابن موسی الرضا(ع) کی کفالت میں قرار پائیں ۔امام رضا علیہ السلام کی ہجرت کےایک سال بعد جناب فاطمہ معصومہ اپنے بھائی سے ملاقات کے شوق میں اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف چل پڑیں۔ اس سفر کے دوران ہر مقام پر اپنے بھائی کی مظلومیت کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتی ہوئی ایران کے ایک شہر ساوہ میں پہنچیں۔

لیکن شدت غم اور اندوہ کی وجہ سے آپ شدید مریض ہو گئیں۔ اب چونکہ خراسان کی طرف جانا ممکن نہیں رہا لہٰذا قم کا ارادہ کیا ۔ شہر قم کا راستہ معلوم کیا اور فرمایا: مجھے قم لے چلو۔ اس لیے کہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے قم کا شہر شیعوں کا مرکز ہے۔ جب قم کے لوگوں کو خبر لگی خوشی اور مسرت کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔آخر کار جناب معصومہ ۲۳ ربیع الاول سنہ ۲۰۱ ھجری کو قم پہنچیں۔ صرف ۱۷ دن اس شہر میں زندگی گذاری۔اور اس دوران اپنے پروردگار سے مسلسل راز و نیاز میں مشغول رہیں۔آپ کا محل عبادت “بیت النور” کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔
آخر کار ۱۰ ربیع الثانی سنہ ۲۰۱ ھجری بارگاہ رب العزت کی طرف سفر کر گئیں۔ قم کے لوگوں نے آپ کے جسد اقدس کو سرزمین قم میں جہاں آج آپ کا روضہ ہے تشییع جنازہ کیا اورنماز جنازہ پڑھنا چاہتے تھے کہ دو روپوش آدمی قبلہ کی طرف سے نمودار ہوئے نماز جنازہ پڑھا کے ایک قبر میں داخل ہوا دوسرے آدمی نے جنازہ قبر میں اتارا اور دفن کر کے غائب ہو گئے
بعض علماء کے بقول وہ دو آدمی امام رضا(ع) اور امام جواد(ع) تھے۔ دفن کے بعد موسی ابن خزرج سایبانی نے ایک کپڑا قبر کے اوپر بطور علامت ڈال دیا یہاں تک کہ ۲۵۶ ھجری میں حضرت زینب امام جواد کی بیٹی نے سب سے پہلی بار اپنی پھوپھی کی قبر شریف پر گنبد تعمیر کروایا اس کے بعد یہ روضہ عالم اسلام مخصوصا اہلبیت کے چاہنے والوں کی عقیدتوں کا مرکز بن گیا۔ اورآج تمام دنیا سے آپ کے چاہنے والے آپ کے روضہ کی زیارت کرنے تشریف لاتے ہیں۔
حضرت معصومہ کی زیارت کی فضیلت
حضرت معصومہ علیہا السلام کے سلسلہ میں ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام کی زیارت کے بعد جتنی ترغیب آپ کی زیارت کے سلسلہ میں دلائی گئی ہے اتنی ترغیب کسی بھی نبی یا اولیا ء خدا کے سلسلے میں نہیں ملتی ۔ تین معصوم شخصیت نے آپ کی زیارت کی تشویق دلائی ہے۔ جن روایات میں آپ کی زیارت کی ترغیب دلائی گئی ہے ان میں سے بعض آپ کی ولادت سے قبل معصوم سے صادر ہوئی تھیں ، بعض روایات میں تو اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ اس وقت آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بھی ولادت نہیں ہوئی تھی۔
(ع)کا ارشاد ہے کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کے ثواب میں جنت نصیب ہوگی ۔ معصومین(ع)کی زبان سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کی فضیلت کے سلسلہ میں چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں:
شیخ صدوق نے صحیح سند کے ساتھ حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ :”من زارھا فلہ الجنة” جو ان کی زیارت کرے گا اسے جنت نصیب ہوگی ۔
حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا ارشاد ہے:”من زارعمتی بقم فلہ الجنة “جس شخص نے بھی قم میں میری پھوپھی کی زیارت کی وہ جنتی ہے ۔
حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے : “ان زیارتہا تعادل الجنة “زیارت معصومہ جنت کے برابر ہے ۔


🌙 *CHAND NEWS_ZIQADAH_1442H*
🕋 “` SHIA Markazi Chand Committe (Regd 3158)“`
“`Uttar Pradesh, Lucknow INDIA“`
*Date: 11th Day of June 2021*
*तमाम मोमेनीन को यह इत्तेला दी जाती है के आज (11 जून 2021) को माहे “ज़ीक़ादह्” के चाँद की तसदीक़ नहीं हुई है। लेहाज़ा (13 जून 2021) को माहे “ज़ीक़ादह् सन् 1442 हिजरी” कि पहली तारीख होगी।*
_*Tamam Momeneen ko yeh ittelah di jati hai ke aaj (11th June 2021) ko Maahe Zeeqadah san 1442 Hijri ke Chand ki Tasdeekh Nahi Hui Hai, Lehaza (13th June 2021) ko Maahe Zeeqadah San 1442 Hijri ki PAHLI Tareekh Hogi!*_
*۲۹/شوال كو ذيقعدہ کے چاند كى تصديق نہیں ہوئی ہے لهذا ۱۳/جون كو يكم ذيقعدہ ھے*

✍🏻 *_मौ• सै• सैफ अब्बास नक़वी_*
*_अध्यक्ष: शिया मरकज़ी चाँद कमेटी, लखनऊ, हिन्दुसतान_*
_रबता करें: +91-9839097407_
“`Official Twitter Handle“` 👇🏻
Tweets by SaifAbbasNaqvii
“`Official Facebook Page“` 👇🏻
https://www.facebook.com/maulanasaifabbas


https://www.youtube.com/watch?v=IxyLlXDBKsw
*Jaago Shia Jaago*
*जागो शिया जागो*
*सुल्तानुल मदारिस पर क़ब्ज़े की साज़िश*
By : Maulana *S. Saif Abbas Naqvi* Saheb Qibla Lucknow
Global Released : *GRAFH AGENCY*, Lucknow
*सुलतानुल मदारिस क़ौमी इदारा है किसी भी हालत में हम इसको किसी को नही लेने देंगे। – मौलाना सैफ़ अब्बास*
मेडिकल कॉलेज और नुजूल डिपार्टमेंट के द्वारा कल 1 जून को किए गए निरक्षण की मौलाना सैफ़ अब्बास ने निंदा करते हुए कहा के हम अपने मदरसे पर कब्ज़ा नहीं होने देंगे। मौलाना सैफ़ अब्बास ने उलमा वा मोमिनीन से अपील की है के आगे निकल कर आए और इस क़ौमी इदारे को बचाएं। मौलाना सैफ़ अब्बास ने कहा के जब क्वीन मैरी हॉस्पिटल की निगाहें सुलतानुल मदारिस की तरफ थी तो उस वक्त आका ए शरीयत मौलाना कल्बे आबिद साहब किबला मरहूम ने अपने हम असर उलमा के साथ सुलतानुल मदारिस में कियारी बना कर पेड़ पौधे लगाए थे लिहाजा हमको अपने बुजुर्गो की पैरवी करते हुए इस क़ौमी सरमाए को बचाना है। मौलाना सैफ़ अब्बास ने इससे पहले सुलतानुल मदरिस की जमीन को रोड चौड़ी करने के बहाने जमीन पर कब्जा किया जा चुका है जो पूरी क़ौम के सामने पूरा वाकिया मौजूद है लिहाज़ा आज कौम के कुछ मुखबिर ऐसी हरकत करे और गवर्नमेंट की खुशनूदी के लिए इस क़ौमी सरमाए को नुक्सान पोहचाए उससे पहले आवाम को बेदार होना होगा।
To,
Hon’ble General Secretary
United Nation
Subject: Protest against demolition of Jannatul Baqi Cemetery by Saudi regime & demand to rebuild it.
Dear Hon’bl General Secretary,
I hope this letter finds you well,
Al-Baqi cemetery, the oldest and one of the two most important Islamic graveyards located in Medina, in current-day Saudi Arabia, was demolished in 1806 and following reconstruction in the mid-19th century, was destroyed again in 1923. An alliance of the House of Saud, and the followers of the Wahhabi movement, carried out the demolition.
DAG Foundation has initiated an online petition to the Honourable dignitaries of the United Nations for the immediate re-construction of the Holy Shrines via www.change.org (Link-http://chng.it/ppvwH476)
Within 72 hours, Hundreds of people, from 25 different countries, including India, USA, UK, Australia, Sweden Tanzania etc have signed this petition. It is worth mentioning that not only people following Islam have signed, but more than 10% who signed are followers of Christianity, Hinduism and other religions. Many other organizations and NGOs in India and abroad had also supported and signed this petition.
This petition is basically in support of the oppressed and to save the World Heritage sites of prime importance to Muslims across the World. These cemeteries in Saudi Arabia were having mausoleums of important personalities of Islam and Saudi government demolished them despite worldwide protest.
Jannatul Baqi is considered sacred by a large section of the Muslim community as it is believed that Prophet Mohammad’s daughter along with her four sons & Shia Imams, Hasan ibn Ali(as), Ali ibn Husayn(as), Muhammad al-Baqir(as), and Jafar al-Sadiq(as) were also buried there. Since the destruction, all over the world, Muslims have been carrying out protest marches and processions urging the ruling Saud Dynasty of Saudi Arabia to allow reconstruction of this holy place but all such requests have never been paid heed to by this extremist dynasty.
Muslims have staged protests across the World every year and have been asking Saudi Government to rebuild them.
We urge UN to safeguard our rights by pressing the Saudi government to reconstruct the holy shrines and repair the graves of sacred personalities of Islam who were laid to rest in Jannat ul Baqi or allow us to donate cash for the reconstruction work. We believe the UN will relay our message to Kingdom of Saudi Arabia.
Sincerely Syed Saif Abbas Naqvi – General Secretary
