Categories
Important Announcement International News Latest post National News UPDATE

حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہاکے مختصر حالات زندگی

حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہاکے مختصر حالات زندگی

آپ کا نام فاطمہ اور مشہور لقب “معصومہ” ہے۔ آپ کے والد محترم ساتویں امام حضرت موسی بن جعفر (ع) اور والدہ محترمہ حضرت نجمہ خاتون ہیں۔

جناب معصومہ کی ولادت پہلی ذیقعدہ ۱۷۳ ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔ بچپنے میں ہی امام موسیٰ ابن جعفر(ع) کی بغداد میں شہادت واقع ہو گئی اور آپ آٹھویں امام علی ابن موسی الرضا(ع) کی کفالت میں قرار پائیں ۔امام رضا علیہ السلام  کی ہجرت کےایک سال بعد جناب فاطمہ معصومہ اپنے بھائی سے ملاقات کے شوق میں اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف چل پڑیں۔ اس سفر کے دوران ہر مقام پر اپنے بھائی کی مظلومیت کا پیغام دنیا والوں تک پہنچاتی ہوئی ایران کے ایک شہر ساوہ میں پہنچیں۔

لیکن شدت غم اور اندوہ کی وجہ سے آپ شدید مریض ہو گئیں۔ اب چونکہ خراسان کی طرف جانا ممکن نہیں رہا لہٰذا قم کا ارادہ کیا ۔ شہر قم کا راستہ معلوم کیا اور فرمایا: مجھے قم لے چلو۔ اس لیے کہ میں نے اپنے بابا سے سنا ہے قم کا شہر شیعوں کا مرکز ہے۔ جب قم کے لوگوں کو خبر لگی خوشی اور مسرت کے ساتھ آپ کے استقبال کے لیے دوڑ پڑے۔آخر کار جناب معصومہ ۲۳ ربیع الاول سنہ ۲۰۱ ھجری کو قم پہنچیں۔ صرف ۱۷ دن اس شہر میں زندگی گذاری۔اور اس دوران اپنے پروردگار سے مسلسل راز و نیاز میں مشغول رہیں۔آپ کا محل عبادت “بیت النور” کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔

آخر کار ۱۰ ربیع الثانی سنہ ۲۰۱ ھجری بارگاہ رب العزت کی طرف سفر کر گئیں۔ قم کے لوگوں نے آپ کے جسد اقدس کو سرزمین قم میں جہاں آج آپ کا روضہ ہے تشییع جنازہ کیا اورنماز جنازہ پڑھنا  چاہتے تھے کہ دو روپوش آدمی قبلہ کی طرف سے نمودار ہوئے نماز جنازہ پڑھا کے ایک قبر میں داخل ہوا دوسرے آدمی نے جنازہ قبر میں اتارا اور دفن کر کے غائب ہو گئے

بعض علماء کے بقول وہ دو آدمی امام رضا(ع) اور امام جواد(ع) تھے۔ دفن کے بعد موسی ابن خزرج سایبانی نے ایک کپڑا قبر کے اوپر بطور علامت ڈال دیا یہاں تک کہ ۲۵۶ ھجری میں حضرت زینب امام جواد کی بیٹی نے سب سے پہلی بار اپنی پھوپھی کی قبر شریف پر گنبد تعمیر کروایا   اس کے بعد یہ روضہ عالم اسلام مخصوصا اہلبیت کے چاہنے والوں کی عقیدتوں کا مرکز بن گیا۔ اورآج تمام دنیا سے آپ کے چاہنے والے آپ کے روضہ کی زیارت کرنے تشریف لاتے ہیں۔

حضرت معصومہ کی زیارت کی فضیلت

حضرت معصومہ علیہا السلام کے سلسلہ میں ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام کی زیارت کے بعد جتنی ترغیب آپ کی زیارت کے سلسلہ میں دلائی گئی ہے اتنی ترغیب کسی بھی نبی یا اولیا ء خدا کے سلسلے میں نہیں ملتی ۔ تین معصوم شخصیت نے آپ کی زیارت کی تشویق دلائی ہے۔ جن روایات میں آپ کی زیارت کی ترغیب دلائی گئی ہے ان میں سے بعض آپ کی ولادت سے قبل معصوم سے صادر ہوئی تھیں ، بعض روایات میں تو اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ اس وقت آپ کے پدر بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بھی ولادت نہیں ہوئی تھی۔

(ع)کا ارشاد ہے کہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کے ثواب میں جنت نصیب ہوگی ۔ معصومین(ع)کی زبان سے حضرت معصومہ سلام اللہ علیہاکی زیارت کی فضیلت کے سلسلہ میں چند حدیثیں ملاحظہ فرمائیں:

شیخ صدوق نے صحیح سند کے ساتھ حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ :”من زارھا فلہ الجنة” جو ان کی زیارت کرے گا اسے جنت نصیب ہوگی ۔

حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا ارشاد ہے:”من زارعمتی بقم فلہ الجنة “جس شخص نے بھی قم میں میری پھوپھی کی زیارت کی وہ جنتی ہے ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے : “ان زیارتہا تعادل الجنة “زیارت معصومہ جنت کے برابر ہے ۔