Categories
International News Latest post National News

اربعین کی زیارت کا پیدل صفر

اربعین کی زیارت کا پیدل صفر

مقدّس مقامات کا صفر کرنا ایک عظیم ثواب کا حامل ہے اور اِس صفر کو پیادہ طے کرنا بھی اپنے آپ میں بڑا اجر رکھتا ہے. کُتُبِ تواریخ بتاتیں ہیں کہ حسنینؑ کریمین یعنی امام حسن اور امام حسین علیہما السّلام نے بارہا پیادہ مدینہ سے مکّہ کو حج کے لیے صفر اختیار کیاہے.یہ اِس کے باوجود کے اُن کے پاس سواری ہوتی تھی بلکہ اُن کے ہم صفر سواری کا استعمال کرتے تھے مگر آپؑ حضرات پیادہ ہی صفر کرتے تھے. اِس بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پیدل چلنا زیادہ ثواب کا حامل ہے.
حال فی الحال میں سیّدالشّہداء کی زیارت کے لییے پیدل چلنے کا رواج محدّثِ نوری- مرزا حسین نوری رح نے شروع کیا ہے. آپ عید الاضحیٰ میں یہ نجف سے کربلا کا صفر پیادہ کیاکرتے تھے. دیگر مراجعہ کرام اور علماء نے اِس صفر کو اربعین میں پیدل ادا کرنا شروع کردیا. آج اِس صفرِ زیارت کو کثیر تعداد میں عراقی اور غیر عراقی بھی پیدل ادا کرتے ہیں. اِس صفر میں یعنی نجف سے کربلا کے راستے میں زائرین کی خدمت کرنے کا جزبہ جو عراقی عوام دکھاتی ہے اُس کی مثال شائد ہی کسی اور مقام یا موقع پر دیکھنےکو ملے. یہ صفر جو پیدل عموماً تین دن میں طے ہوتا ہے اِس میں صرف عراقی ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کے زائرین بھی شامل ہوتے ہیں. ہر عمر کے, مختلف رنگ کے, مختلف مُلک کے , مختلف زبان بولنے والے افراد گروہ در گروہ ‘لبیک یا حسین’ؑ کی صدا بلند کرتے ہوے کربلا کی طرف بڑھتے رہتے ہیں. اُن کی پزیرائ کے لییے مقامی افراد اپنے گھر سے نکل کر اُن کی خدمت کرتے ہیں- کوئ غزا فراہم کرتا ہے تو کوئ مشروبات کی سبیل کرتا ہے تو کوئ زائرین کے آرام کے لییے مکان کا انتظام کرتا ہے. کچھ تو تھکے ہوءے پیروں کی مالش کرکے ثواب کما لیتے ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published.